Pakistan’s new PM backs sex harassment probe against Imran Khan

Imran-Khan-Ayesha-Gulalai-

Pakistan’s new prime minister Friday backed a parliamentary investigation into allegations of sexual harassment leveled by a female lawmaker against firebrand opposition leader Imran Khan, in a scandal that has gripped the conservative country.

The scandal erupted after Ayesha Gulalai, a National Assembly member from conservative Khyber Pakhtunkhwa province, accused Khan and other leaders of his Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) party of sending obscene text messages and promoting a culture of sexism.

The accusations come days after Pakistan’s top court disqualified Khan’s long-time political nemesis Nawaz Sharif from the premiership on corruption charges, spurring public celebrations from the cricketer-turned-politician and his supporters.

Newly-elected Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi, seen as a Sharif loyalist, on Friday backed moves to form a parliamentary committee to investigate the matter after a group of legislators raised the allegations in the house.

“This is an issue concerning the house’s integrity — I will suggest forming a closed-door, special committee to probe the allegations and present its findings in the house,” Abbasi told parliament.

In a televised press conference earlier this week Gulalai accused Khan of harassing female leaders in the PTI and resigned from the party.

“Imran Khan’s list of sins is very long but the way he sends obscene text messages — and the way women and girls are being treated in this party, I will say that the honour of women is not safe, because of Imran Khan and because of the people around him,” Gulalai told reporters in Islamabad.

“I cannot compromise my integrity and that’s why I decided to take this step,” she added.

Gulalai has not released any of the alleged text messages, prompting many in Pakistan to believe the case may be politically motivated.

Khan, along with the PTI’s top brass, batted down the allegations, accusing Sharif’s ruling Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) of using money to defame political rivals.

“I was astonished to hear that. I suspect that the (PML-N) has used her against me,” Khan told broadcaster ARY.

“Do your worst; stoop as low as you can; me & my struggle-hardened party will become ever stronger IA,” Khan wrote on Twitter.

The accusations evoked a social media storm and provoked a debate on sexual harassment in Pakistan, with Khan’s opponents accusing him of promoting Western values while others called for acid attacks targeting Gulalai, according to news reports.

The backlash targeting Gulalai in particular provoked criticism from women’s rights activists, who said the claims should be investigated rather than met with threats of violence, particularly in a country where women have struggled for their rights for decades. – AFP

 

 

 

 

 

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔

تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

’ثابت ہو گیا کہ طاقتور بھی قانون کے ماتحت آ سکتا ہے‘

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

’سسر نے بحال کیا تو داماد نے نااہل‘

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔

کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔

جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

نوازتصویر کے کاپی رائٹAFP

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟

کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔

نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

میں پاکستانی مردوں سے ملی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو دراصل خود۔۔۔‘ پاکستان آئی فرانسیسی خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر تمام پاکستانی مَردوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں

یگر مشرقی معاشروں کی طرح پاکستانی معاشرے کو بھی ’مردوں کا معاشرہ‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ پدر سری (مردانہ) معاشرے میں عورتوں کا استحصال ہوتا ہے لیکن شاید حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے کے مرد بھی کچھ کم مظلوم نہیں ہوتے۔ ویب سائٹ مینگو باز کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی خاتون آریلی سالویئر، جو کہ ایک کاروباری شخصیت اور سماجی محقق ہیں، کا یہی کہنا ہے کہ جب وہ پاکستان آئیں اور یہاں کے مردوں سے ملیں تو وہ بیچارے عورتوں سے بھی زیادہ مظلوم نظر آئے۔

آریلی یہ جاننے کے لئے پاکستان آئیں کہ یہاں کی مردانگی حرکیات کیا ہیں اور یہ کہ ایک پدرسری معاشرے میں مرد کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی مردوں سے بات چیت کی تو پتا چلا کہ وہ جذباتی طور پر خواتین سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور پدرسری ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کی آزادی پر بھی زد پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر پاکستانی مرد اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ معاشرے میں پائے جانے والے مردانگی کے تصور کے ان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ اس طرز معاشرت کے کچھ فوائد ہیں لیکن اس کی وجہ سے آپ وہ بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو دراصل آپ نہیں ہوتے۔ آپ پر دباﺅ ہوتا ہے کہ آپ اپنے جذبات کو دبا کر رکھیں۔ نہ کسی کے سامنے اپنے دکھ درد بیان کریں اور نہ کبھی آنسو بہائیں، کیونکہ یہ تو عورتوں کے کام ہیں۔ مردانہ معاشرے میں مردوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے جذبات کا اظہار نہ کریں جو انہیں کمزور ظاہر کریں۔
آریلی کہتی ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں مرد ہونے کے فوائد حقیقی نہیں ہیں، کیونکہ اصل آزادی تو یہی ہے کہ آپ جو ہیں وہ نظر بھی آ سکیں۔ خود کو مرد ثابت کرنے کے لئے آپ اپنی فطرت کے خلاف خود پر جبر کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں ۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین اپنے بیٹوں کو شروع سے یہ تربیت دیتی ہیں کہ وہ مردوں جیسا رویہ اختیار کریں تاکہ انہیں معاشرے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آریلی کا کہنا ہے کہ اس نوع کی پابندیاں نہ ہوں تو مرد بہتر اور زیادہ صحت مند سماجی تعلقات استوار کرسکتے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی بھی بہتر ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ بطور معاشرہ ہم نے مردانگی کو انسانیت سے بالا تر سمجھ لیا ہے، جس کی ہمیں قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے۔ اگر ہم اس صورتحال کو بدل سکیں تو بحیثیت قوم زیادہ خوش رہ سکیں گے

سلم لیگ ن نے عبوری وزیر اعظم کے لیے شاہد خاقان عباسی کے نام پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد ان کے نام کی منظوری دے دی گئی ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم ہاوس میں نواز شریف کی زیر صدارت غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اتفاق کیا گیا کہ شاہد خاقان عباسی کو 45دنوں کے لیے وزیر اعظم بنا یا جائے گا جس کے بعد مستقل طور پر شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا یا جا ئےگا ۔غیر رسمی اجلاس میں اتفاق کے بعد آج شام ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے نام کی توثیق کرائی جائے گی ۔